منگل 27 جنوری 2026 - 18:16
کیا واقعی جنگ ہونے والی ہے؟

حوزہ/ اس وقت عالمی منظرنامے پر جو بے چینی، اضطراب اور خطرے کی سی کیفیت طاری ہے، اس نے ذہنوں میں ایک عجیب سا خوف بٹھا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہو، اور ذرا سی لغزش اسے ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل دے۔ فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی، جنگی بیانات کی سختی، اور ذرائع ابلاغ میں مسلسل تبصروں کی بھرمار—یہ سب مل کر یہی تاثر پیدا کر رہے ہیں کہ اب جنگ کوئی بعید امکان نہیں رہی بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو کسی بھی لمحے سامنے آ سکتی ہے۔

تجزیہ نگار: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| اس وقت عالمی منظرنامے پر جو بے چینی، اضطراب اور خطرے کی سی کیفیت طاری ہے، اس نے ذہنوں میں ایک عجیب سا خوف بٹھا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہو، اور ذرا سی لغزش اسے ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل دے۔ فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی، جنگی بیانات کی سختی، اور ذرائع ابلاغ میں مسلسل تبصروں کی بھرمار—یہ سب مل کر یہی تاثر پیدا کر رہے ہیں کہ اب جنگ کوئی بعید امکان نہیں رہی بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو کسی بھی لمحے سامنے آ سکتی ہے۔

اگر آج کے حالات میں دنیا بھر کے تبصرہ نگاروں، تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کی بات سنی جائے، یا ان کی تحریریں پڑھی جائیں، تو کم و بیش سب کی زبان پر ایک ہی جملہ گردش کرتا نظر آتا ہے کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ اختلاف صرف وقت کے تعین میں ہے، اصل امکان پر نہیں۔ گویا عالمی رائے عامہ اس شور میں اس قدر گم ہو چکی ہے کہ اس کے سوا کوئی اور راستہ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

مگر اس ہنگامے، اس شور و غوغا اور اس مسلسل خوف کے ماحول کے درمیان، دل کے کسی گوشے سے ایک خاموش سی آواز اٹھتی ہے جو بار بار یہ کہتی ہے کہ شاید حقیقت اس قدر سادہ نہیں۔ ممکن ہے کہ جو کچھ ہمیں دکھائی دے رہا ہے وہ مکمل تصویر نہ ہو، اور جو نتیجہ بظاہر ناگزیر سمجھا جا رہا ہے وہ دراصل ابھی طے شدہ نہ ہو۔ کبھی کبھی تاریخ کے بڑے فیصلے شور میں نہیں، خاموشی میں ہوتے ہیں—اور شاید یہی خاموشی آج بھی اپنا کام کر رہی ہے۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ امریکہ اس مرحلے پر براہِ راست جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا، تو پھر ایک فطری اور سنجیدہ سوال خود بخود سامنے آتا ہے کہ آخر اتنی بھاری فوجی قوت کو اس قدر قریب لانے کی ضرورت کیا ہے؟ ایک وسیع اور منظم بحری بیڑا، جدید ترین جنگی سازوسامان، اور غیر معمولی سطح کی تیاری—یہ سب کسی وقتی جذباتی ردِّعمل یا محض نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ ایسی سرگرمیاں ہمیشہ کسی گہرے منصوبے اور طویل غور و فکر کے بعد ہی سامنے آتی ہیں۔

قرینِ قیاس یہی ہے کہ اس تمام نقل و حرکت کا مقصد فی الحال جنگ چھیڑنا نہیں، بلکہ سامنے کھڑے حریف کو پوری طرح پرکھنا ہے۔ اس کی دفاعی تیاریوں کا اندازہ لگانا، اس کی عسکری ساخت کی مضبوطی کو جانچنا، اس کی قیادت اور عوام کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنا، اور یہ دیکھنا کہ کسی غیر معمولی دباؤ کی صورت میں اس کا ردِّعمل کس نوعیت کا ہو سکتا ہے—یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کاغذی رپورٹس یا دور بیٹھے تجزیوں سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اکثر اوقات بڑی طاقتیں جنگ سے پہلے میدان میں اتر کر نہیں بلکہ ماحول بنا کر فیصلہ کرتی ہیں۔ وہ دشمن کو قریب سے دیکھتی ہیں، اس کی خاموشیوں کو پڑھتی ہیں، اس کی تیاریوں میں چھپے پیغامات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں، اور پھر اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ کہاں قدم بڑھانا ہے اور کہاں رک جانا زیادہ دانش مندی ہے۔ ممکن ہے کہ اس غیر معمولی فوجی سرگرمی کے پیچھے بھی یہی حکمتِ عملی کارفرما ہو—یعنی تصادم سے پہلے مکمل یقین، اور اقدام سے پہلے ہر امکان کا احاطہ۔

گزشتہ چار دہائیوں کی تاریخ پر اگر ایک سنجیدہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت صاف نظر آتی ہے کہ ایران کے خلاف تقریباً ہر وہ حربہ آزمایا جا چکا ہے جو جدید عالمی سیاست اور طاقت کی لغت میں موجود ہے۔ معاشی دباؤ کے ذریعے عوام کو تھکانے کی کوشش کی گئی، نفسیاتی جنگ کے ذریعے اعتماد کو متزلزل کرنے کی تدبیریں اختیار کی گئیں، معاشرتی انتشار پیدا کرنے کے لیے اختلافات کو ہوا دی گئی، اور سفارتی محاذ پر ایران کو تنہا کرنے کے لیے ہر ممکن راستہ اپنایا گیا۔ حتیٰ کہ داخلی خلفشار کو ابھارنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، مگر ان تمام کوششوں کے باوجود وہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

یہی ناکامی شاید اس مرحلے تک لے آئی ہے جہاں اب فیصلہ کن اقدام کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن تاریخ کا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کن قدم محض جذبات یا دباؤ کے تحت نہیں اٹھایا جاتا۔ ایسا اقدام اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب سامنے کھڑے فریق کی طاقت، اس کی کمزوریاں، اس کے وسائل، اس کی نفسیاتی کیفیت، اور اس کے ردِّعمل کے تمام ممکنہ راستے پوری طرح سمجھ لیے گئے ہوں۔ بغیر مکمل اندازے کے کیا گیا حملہ اکثر فیصلہ کن کے بجائے تباہ کن ثابت ہوتا ہے—اور شاید یہی اندیشہ اس وقت سب سے زیادہ حاوی ہے۔

ممکن ہے کہ اسی پس منظر میں یہ غیر معمولی فوجی منظرنامہ تشکیل دیا گیا ہو۔ یہ سرگرمی محض طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں، بلکہ ایک گہرے تجزیے اور آخری جائزے کا حصہ محسوس ہوتی ہے—ایک ایسا جائزہ جس کے بعد ہی کسی بڑے فیصلے کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے، یا پھر خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا ہی واحد دانش مندانہ راستہ بن جاتا ہے۔

لیکن اس پورے منظرنامے میں ایک بنیادی حقیقت ایسی ہے جسے نظرانداز کرنا نہ صرف سادہ لوحی ہے بلکہ حقائق سے چشم پوشی کے مترادف بھی۔ ایران کی حکمتِ عملی محض عسکری تیاریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور سوچے سمجھے ہوئے نظامِ فکر کی عکاس ہے، جس میں پراسراریت بھی ہے اور خاموشی بھی، صبر بھی ہے اور ضبط بھی۔ اس کی قیادت کے طرزِ عمل میں ایک غیر معمولی سنجیدگی اور کنٹرول نمایاں نظر آتا ہے—ایسا کنٹرول جو ہنگامی ردِّعمل کے بجائے طویل المدت نتائج کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔

ایران کے پاس ایسے حربے اور ایسے اثرانداز ہونے والے امکانات موجود ہیں جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے۔ اس کی طاقت محض ہتھیاروں یا فوجی تعداد میں نہیں، بلکہ خطے کی سیاست، عالمی معیشت، توانائی کے راستوں، اور نفسیاتی توازن پر اثر ڈالنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو بڑی سے بڑی عسکری قوت کو بھی بار بار رکنے، سوچنے اور قدم پیچھے کھینچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسی طاقت، جو عموماً فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھنے کی عادی رہی ہے، اس معاملے میں بار بار یوٹرن لیتی دکھائی دیتی ہے، اور پسپائی آہستہ آہستہ اس کی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بنتی چلی گئی ہے۔

اس کے برعکس، ایرانی قیادت کے لہجے اور طرزِ عمل میں گزشتہ چالیس برسوں کے دوران کسی قسم کی گھبراہٹ، پسپائی یا تذبذب نظر نہیں آتا۔ ایک ایسا شخص، جسے دنیا عام فہم زبان میں ایک مذہبی پیشوا کہہ کر پکارتی ہے، پورے یقین، کامل اعتماد اور داخلی اطمینان کے ساتھ اپنے موقف پر قائم دکھائی دیتا ہے۔ اس کی گفتگو میں وقتی جوش نہیں بلکہ ٹھہرا ہوا یقین بولتا ہے، اور اس کے فیصلوں میں وقتی مصلحتوں کے بجائے ایک طویل فکری اور ایمانی تسلسل کی جھلک نمایاں ہے۔

یہی تسلسل، یہی یقین، اور یہی خاموش استقامت دراصل وہ عنصر ہے جو اس پوری کشمکش کو محض طاقت کے توازن کا مسئلہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اقدار، نظریات اور ارادوں کی آزمائش بنا دیتا ہے—اور شاید یہی وہ پہلو ہے جو اس تصادم کو اب تک ٹالے ہوئے ہے۔

یوں اس وقت عالمی منظرنامے پر دو طاقتیں آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف وہ قوت ہے جس کے فیصلے بین الاقوامی سیاست کے دھارے موڑ دیتے ہیں، جس کے ایک اشارے سے منڈیاں لرزتی ہیں، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے ہیں، اور دنیا کے طاقت کے مراکز اپنی سمت درست کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایسا ارادہ ہے جس کے عزائم وقتی سیاسی فائدوں سے بلند ہو کر تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوتے دکھائی دیتے ہیں—ایک ایسا عزم جو شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں اپنی طاقت منواتا ہے۔

ایسی نازک اور حساس کیفیت میں معمولی سی لغزش بھی بڑے نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔ یہاں کوئی قدم محض ایک قدم نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک سلسلے کی ابتدا بن سکتا ہے جسے روکنا پھر کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اگر اس مرحلے پر ذرا سی بھی غلط فہمی، جلدبازی یا غلط اندازہ سامنے آ گیا، تو اس کا ردِّعمل بھی اسی شدت کے ساتھ ظاہر ہو گا—ایسا ردِّعمل جو محدود دائرے میں قید نہیں رہے گا۔

ایسی صورتِ حال میں بعید نہیں کہ وہ تمام غیر آزمودہ صلاحیتیں بھی حرکت میں آ جائیں جن کا ذکر عام حالات میں محض اشاروں میں کیا جاتا ہے۔ وہ امکانات جو کاغذوں میں دبے رہتے ہیں، وہ قوتیں جو صرف حساب کتاب میں سمجھی جاتی ہیں، اور وہ راستے جو بظاہر بند نظر آتے ہیں—سب یکایک حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں تصادم محض طاقت کا نہیں رہتا، بلکہ بصیرت، ضبط اور دانش مندی کا امتحان بن جاتا ہے۔

اور شاید اسی احساس نے اب تک ہاتھ روک رکھے ہیں—کیونکہ یہاں ایک غلطی صرف ایک فریق کی نہیں، پوری دنیا کی تقدیر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ان تمام ظاہری تیاریوں اور سخت گیر بیانات کے باوجود، مجموعی حالات پر نظر ڈالنے سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ فی الحال کسی چھوٹے حملے کا بھی کوئی واضح اور حقیقی امکان نظر نہیں آتا۔ کشیدگی اپنی جگہ موجود ہے، مگر فیصلہ کن اقدام ہمیشہ اسی وقت کیا جاتا ہے جب نتائج کے بارے میں مکمل یقین حاصل ہو جائے، اور موجودہ صورتِ حال میں ایسا یقین دکھائی نہیں دیتا۔

تجربۂ تاریخ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی طاقت حملے کا فیصلہ اسی مرحلے پر کرتی ہے جب اسے یہ اطمینان ہو جائے کہ سامنے والا فریق پلٹ کر وار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، یا اس کے ردِّعمل کو محدود اور قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ اطمینان حاصل ہونا نہایت دشوار محسوس ہوتا ہے۔ سامنے کھڑی قوت کی صلاحیتیں ابھی پوری طرح آشکار نہیں ہوئیں، اس کے امکانات ابھی مکمل طور پر ناپے نہیں جا سکے، اور اس کے ردِّعمل کے دائرے کا اندازہ ابھی تشنہ ہے۔

اسی لیے زیادہ قرینِ عقل یہی معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ کشیدگی دباؤ، جانچ اور پیغام رسانی کے مرحلے سے آگے نہ بڑھے۔ بعض اوقات جنگ کو روک دینا ہی سب سے بڑی حکمتِ عملی ثابت ہوتا ہے—اور شاید اس وقت بھی عالمی سیاست اسی موڑ پر کھڑی ہے، جہاں شور بہت ہے مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔

آخر میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ تاریخ کے بڑے فیصلے صرف ہتھیاروں، بیڑوں اور نعروں سے نہیں ہوتے۔ اصل فیصلہ ہمیشہ ایک ایسی قوت کے اختیار میں ہوتا ہے جو انسانی تدبیروں سے بالاتر ہے، اور جس کے سامنے طاقت کے تمام اندازے بے وزن ہو جاتے ہیں۔ آنے والا وقت کسی اچانک تبدیلی کا پیام لائے گا یا پھر یہ سارا اضطراب خاموشی کے ساتھ بکھر جائے گا—یہ راز انسانی فہم کی دسترس سے باہر ہے۔

تاہم موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگ کوئی لازمی انجام نہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی دانائی یہی ہوتی ہے کہ تصادم ٹال دیا جائے، اور شاید اسی ضبط اور توقف میں انسانیت کے لیے زیادہ خیر پوشیدہ ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha